بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی صحت کے لئے بہت بڑا خطرہ ہے،آج کے اس ترقی یافتہ دور میں ہوا کی آلودگی میں بہت زیادہ اضافہ ہوگیا ہے جو ہماری صحت ہر برے اثرات مرتب کرتی ہے۔آلودگی کی بڑھتی ہوئی شرح کی وجہ سے بہت سی بیماریوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔شہروں سے اٹھتا ہوا دھواں،مصروف شہراؤں میں گاڑیوں کا دھواں،سگریٹ کا دھواں یہ سب ہوا میں آلودگی کا سبب بن رہی ہیں۔ہوا کی آلودگی کی وجہ سے ہمیں جن بیماریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے یہ جاننے کے لئے آپ یہ مضمون لازمی پڑھیں۔
فضائی آلودگی کی وجہ سے ہونے والی بیماریاں-
فضائی آلودگی کی وجہ سے انسان کو بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن میں یہاں چند بیماریوں کا ذکر کروں گی جو ہماری صحت کو خراب کرنے کے ساتھ ساتھ ہمیں موت کی طرف لے جاتی ہیں۔
سانس کی بیماری-
فضائی آلودگی ہماری صحت پر برے اثرات مرتب کرتی ہے،یہ پیھپڑوں کی نشوونما پر اثرانداز ہوتی ہے۔اس کی وجہ سے ہم دمہ کی بیماری دیگر سانس کی بیماریاں جیسےدائمی رکاوٹ پلمونری بیماری اور برونکائٹس وغیرہ۔یہ تمام بیماریاں ہوا میں آلودگی کی بدولت ہوتیں ہیں۔
دل کی بیماری-
فضائی آلودگی دل کی بیماری کا بھی باعث بنتی ہے۔اس کی وجہ سے خون کی شریانوں کو نقصان پہنچتا ہے جس کی وجہ سے ہم دل کی بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں۔نائٹروجن آکسائیڈ ہماری صحت کے لئے بہت نقصان دہ ہے۔زیادہ کولیسٹرول بھی دل کے امراض میں اضافہ کرتا ہے۔
قبل از وقت پیدائش-
فضائی آلودگی خون میں زہریلے مادوں کی شرح کو بڑھا دیتی ہے جس وجہ ایک حاملہ عورت کی قوت مدافعت پر اثر پڑتا ہے۔اس وجہ سے بچے کا وزن کم ہوسکتا ہے۔
قبل از وقت موت-
فضائی آلودگی قبل از وقت موت کا بھی سبب بن سکتی ہے،ہر سال ہزاروں لوگ فضائی آلودگی کی وجہ سے مرتے ہیں۔یہ اموات زیادہ تر سانس کی بیماری، دمہ اور پیپھڑوں کئ کینسر کی وجہ سے ہوتیں ہیں۔
دماغ پر اثر-
مطالعات سے علم ہوا ہے کی ٹریفک سے وابستہ فضائی آلودگی ہمارے دماغ کی صحت پر اثر ڈالتی ہے۔یہ ہماری میموری اور نشوونما میں اثر ڈالتی ہے۔آلودگی کی وجہ سے ہونے والی تبدیلیاں ہمارے ترقی کے راستے میں رکاوٹ ڈالتی ہیں۔
بچوں پر اثر-
ڈبلیو۔ایچ۔او ادرے کے مطابق فضائی آلودگی کے بچوں پر تباہ کن اثر ہوتا ہے،ایک تحقیق کے مطابق 5 سے 18 سال کے بچوں میں 14 فیصد دمہ کی بیماری دیکھی گئی۔حاملہ عورتیں جب آلودگی کا سامنا کرتیں ہیں تو انہیں بچوں کی دماغ کی نشوونما پر اثر پڑتا ہے۔
ہم کیسے ہوا فضائی آلودگی کم کرنے میں اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں؟-
پبلک ٹرانسپورٹ کا استعمال کریں۔-
بلاوجہ لائٹ نہ جلائیں۔-
سگریٹ نوشی کم کریں-
ایر کنڈیشنر کی بجاے پنکھوں کو چلائیں۔
چیزوں کو جلانے سے گریز کریں۔-
بلاوجہ ہارن نہ دیں۔-
ہوسکے تو پیدل چلیں۔-
آنے والے دور میں فضائی آلودگی بہت زیادہ خطرہ پیدا کرسکتی ہے،اس لئے ہمیں جتنا ہوسکے اپنا حصہ ڈالنا چاہیے تاکہ ہم اپنے وطن کے لئے اچھا کرسکیں۔
ڈاکٹر سے بات-
ہم ایک اور کام کرکے فضائی آلودگی کو کم کرسکتے ہیں، آج کے اس دور میں ہم گھر پہ بھی ڈاکٹر سے بات کرسکتے ہیں،اگرآپ کو اپنی صحت کے حوالے سے کوئی مسئلہ درپیش ہے تو آپ ڈاکٹر کے کلینک پر جانے کی بجائے فون پر پہلے اپائینمٹ بک کرواسکتے ہیں تاکہ آپ کا ڈاکٹر پاس ایک ہی چکر لگے،اس کے لئے ہمیں مرہم۔پی،کے کی ویب سائٹ پر فون کرنا ہوگا اور ڈاکٹر سے اپائنمنٹ بک کروانی ہوگی اس کے علاوہ اگر آپ گھر پر ہی اپنا مسئلہ حل کرنا چاہیتے ہیں تو وڈیو کنسلٹیشن یا اس نمبر پر 03111222398 کال کرکے آن لائن کنسلٹیشن بھی لے سکتے ہیں۔
اس لئے اپنا حصہ ڈالیں اور اچھے شہری بنیں۔