طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح کے اسباب میں بہت سے عوامل شامل ہیں شادی کی اگلی صبح دلہن کے گھر والے ملتے ہی جو پہلا سوال کرتے ہیں اور سناؤ تمہارے سسرال والے کیسے لوگ ہیں اور جواب آیا کہ بس کیا بتاؤں ابھی تو آغاز ہے لیکن یہ لوگ ویسے لگتے نہیں ہیں جیسا ہمیں دیکھایا گیا تھا
طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح کے عوامل میں یہ مناظر اور یہ صورتحال یقینا ہم سب کے لیے بہت جانی پہچانی ہے کیوں کہ برصغیر پاک و ہند کے رہنے والے خاندان اس طرح کی صورتحال سے اکثر گزرتے ہیں اس سے آگے کی داستان ہر کہانی میں مختلف نشیب و فراز سے گزرتی مختلف رنگ اختیار کرتی جاتی ہے یا پھر جلد ہی یہ داستان اپنے اختتام کو پہنچتی ہے اور وہ دلہن جس سے بڑے ارمانوں سے بیاہ کر لایا گیا تھا طلاق کا پروانہ ہاتھ میں لیے واپس اپنے ماں باپ کے گھر جا پہنچتی ہے
اس وقت پاکستان میں طلاق کی شرح میں افسوس ناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے صرف سٹی کورٹ کراچی میں اس سال تقریبا پندرہ ہزار طلاق کے کیسز دائر کیے گئے ماضی کے مقابلے میں بڑھتی ہوئی طلاق کی شرح خطرناک حد تک پہنچ کر ایک سماجی مسئلہ بن چکی ہے اور یہ مسئلہ ہمارے خاندانی نظام کی جڑوں کو کھوکھلا کر رہا ہے
کسی بھی معاشرے کا خاندانی نظام ہی اس کی بنیادی اکائی ہوا کرتا ہے خاندانی نظام کی مضبوطی ہی معاشرے کی کامیابی کی ضامن ہے مضبوط خاندانی نظام ہی نسل انسانی کی بقا بچوں کی نشوونما پرورش اور درست سمت میں تربیت کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے ناکام شادی صرف دو افراد کے درمیان علیحدگی کا ہی نام نہیں بلکہ یہ یہ اس گھرانے کی آنے والی نسلوں پر بری طرح سے اثر انداز ہوتی ہے
والدین کی ذمہ داری
تمام والدین کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ بیٹے یا بیٹی کے جیون ساتھی میں لازمی طور پر وہ اخلاقی اقدار موجود ہوں جن اخلاقی اقدار کے ساتھ انہوں نے اپنے بچوں کی پرورش کی ہے رشتے طے کرتے ہوئے جب مطابقت اور ہم آہنگی کو ہی پس پشت ڈال دیا جائے تو نتیجہ پھر طلاق کی صورت میں نکلتا ہے
غیر ذمہ دارانہ رویہ
شادی ہمارے معاشرے میں ایک پوری سائنس ہے جس کے ذریعے علاج معالجے کا کام بھی لیا جاتا ہے طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح میں ایک یہ سوچ بھی کارفرما ہے کہ اگر کسی کا بیٹا یا بیٹی کسی طرح کے ذہنی انتشار کا شکار ہے تو اُنہیں مشورہ دیا جاتا ہے کہ اس کی شادی کر دو سب ٹھک ہو جائے گا
کوئی لڑکا اگر غیر ذمہ دارانہ رویے کا مظاہرہ کر رہا ہے تو اس کا علاج بھی شادی میں ڈھونڈا جاتا ہے اور فرض کر لیا جاتا ہے جب سر پہ ذمہ داری پڑے گی تو خود ہی ٹھیک ہو جائے گا اب اگر اسے ذمہ داری کا احساس شادی کے بیس سال بعد ہو اور اس دوران بیوی بچے رل جائیں یا وہ فورا ہی ذمہ داری سے گھبرا کر رشتہ توڑنے پر تل گیا تو اس کا ذمہ دار کیا میڈیا کہلائے گا
برقی آلات کا استعمال
طلاق ایک سماجی مسئلہ اس لیے نہیں بنتا جا رہا ہے کہ بے حیائی مالی تنگی یا عدم برداشت میں اضافہ ہو رہا ہے یہ پہلو بھی اپنی جگہ کسی حد تک کارفرما ہوں گے لیکن انہیں مسئلہ کی جڑ نہیں کہا جا سکتا دراصل یہ مسئلہ ہمارے معاشرے کا سماجی ڈھانچہ بکھرنے سے وجود میں آ رہا ہے انا پرستی اور بڑھتی ہوئی مادہ پرستی رشتوں کو کمزور اور خراب کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے فی زمانہ رشتے اور تعلقات کی اہمیت کم سے کم اور برقی آلات زیادہ اہمیت کے حامل ہوچکے ہیں
ہماری ترجیحات اور تعلقات اپنے فائدے سے جڑے ہیں ہم دکھاوے اور مادہ پرستی کی ایسی دلدل میں دھنستے جا رہے ہیں جہاں سے نکلنا ناممکن نظر آتا ہے ناممکن ہم سب ہی اس سماجی بگاڑ کے ذمے دار ہیں معاشرے کے اس بگاڑ کی درستی کسی اور کے ہاتھ میں نہیں ہمارے اپنے ہی ہاتھوں میں ہے
عدم برداشت کا مرض تو جیسے من حیث القوم ہمیں لاحق ہو چکا ہے زندگی میں کوئی ایسا پہلو نہیں جہاں ہماری برداشت کی حد ختم نہ ہوچکی ہو میاں بیوی جیسے نازک رشتے میں برداشت کے عنصر کا ہر وقت موجود ہونا لازم وملزوم ہےاگر میاں بیوی ایک دوسرے کی باتوں کو برداشت نہیں کریں گے لچک کا مظاہرہ نہیں کریں گے تو رشتے کبھی قائم نہیں رہ سکتے
آج یہی برداشت کے مادے میں کمی اور اپنی خواہشات کو دوسرے سے مقدم رکھنے کے باعث طلاقوں میں بے پناہ اضافہ ہو رہا ہے اکثر اوقات شوہر بیویوں کو غصّے میں ہی طلاق سنا دیتے ہیں اور بعد میں پوری زندگی پچھتاوے کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آتا یہی صورتحال عورت کی جانب سے بھی دیکھی جاتی ہے
کم عمری کی شادی
ہماری جہالت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 2020 میں بھی پاکستان میں بچوں کی کم عمری میں شادی کا رجحان عام ہے بالخصوص دیہاتی علاقوں میں بچیوں کی اٹھارہ سال سے کم اور لڑکوں کی بھی تقریباً اسی عمر میں شادی ہوجاتی ہے ان خاندانوں کے بڑے جو اس بات کی پرواہ کیے بغیر کہ ان کے بچوں کی زندگیاں بری طرح متاثر ہونگی انھیں زبردستی رشتہ ازدواج میں باندھ دیتے ہیں
ظاہر ہے کہ پھر اس بچگانہ کھیل کے نتائج بھی خطرناک ہونگے ذرا سی چپکلش اور نادانی میں باتیں طلاق تک پہنچ جاتی ہیں اس حوالے سے ملک میں قانون اور سزائیں تو موجود ہیں مگر ریاست اس پر مکمل عمل درآمد کروانے میں ناکام نظرآتی ہے
جوائنٹ فیملی سسٹم
ساس اور بہو دیورانی اور جیٹھانی کی سازشیں صرف ڈراموں میں دیکھنے کونہیں ملتی بلکہ یہ تمام عوامل پاکستان کے متوسط طبقے میں پسندیدہ سمجھے جاتے ہیں خصوصاً جوائنٹ فیملی سسٹم میں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور توہمت لگانے کا رواج ہر گزرتے دن پروان چڑھ رہا ہے رشتہ دار اکثر میاں بیوی کے درمیان دوریاں پیدا کرنے کی وجہ بنتے ہیں ایک ہی مکان میں مقیم زیادہ گھرانے آپس میں اتفاق اور الفت قائم رکھنے کے بجائے ایک دوسرے پر الزام تراشیوں میں زیادہ مصروف رہتے ہیں جہاں ذاتی معاملات میں دخل اندازی ان کا مشغلہ بن جاتا ہے اور یہی گھروں کے ٹوٹنے کی وجہ بنتا ہے
پسند کی شادی اور سماجی آزادی
دنیا میں مجموعی طور پر 80 فیصد طلاقوں یا خلع کے کیسز لو میرج کے ہوتے ہیں یعنی کہ پسند کی شادیاں جو نوجوان جوڑے بڑی امیدوں کے ساتھ کرتے ہیں وہ امیدیں کچھ ہی عرصہ بعد کانچ کی طرح ٹوٹ جاتی ہیں تحقیق کے مطابق 17 سے 25 سال کی عمر کے درمیان نوجوان شخصیت کے بجائے ایک دوسرے کی بیرونی خوبصورتی کی طرف زیادہ مائل ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کو ہر صورت حاصل کرنے کا جذباتی فیصلہ اپنی انا کا مسئلہ بنا لیتے ہیں
اور پھر 25 30 سال کی عمر کے بعد صرف بیرونی دلکشی کے ساتھ منسوب خوبصورتی کمزور ہونے لگتی ہے اور رفتہ رفتہ دل سے ایک دوسرے کیلئے اچھے جذبات ماند پڑ جاتے ہیں جن کی جگہ مفادات لے لیتے ہیں یہ کہنا بھی غلط نہ ہوگا کہ شادی جیسی بڑی ذمہ داری کو فقط پسندیدگی کے کمزور دھاگے کے سہارے چلانا آسان نہیں کیونکہ وہ دھاگہ معمولی جھٹکے سے ٹوٹ سکتا ہے
شادی کرنے سے زیادہ مشکل کام اس کا نبھانا ہوتا ہے جو ہر کسی کے بس کی بات نہیں یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پسند کی شادیوں میں اضافہ کیوں اور کیسے ہو رہا ہے
موبائل فون اور انٹرنیٹ کا استعمال
بڑا کردار انٹرنیٹ اورسماجی آزادی کا ہے نوعمری میں ہی لڑکوں اورلڑکیوں کے ہاتھ میں موبائل اور انٹرنیٹ دے دینے سے وہ بغیر کسی جانچ پڑتال کے آپس میں تعلق بنانا شروع کرتے ہیں اور بغیر ایک دوسرے سے ملے اور دیکھے چند ہی دنوں میں یہ تعلق شادی کی خواہش تک پہنچ جاتا ہے
اور پھر بچوں کی ضد پر شادی بھی ہو جاتی ہے جس کے بعد پتہ چلتا ہے کہ یہ تو میرا آئیدیل تھا ہی نہیں اسکا تو کریکٹر ہی خراب ہے اور تب احساس ہوتا ہے کہ وہ باتیں صرف فون پر ہی اچھی لگتی تھیں لہذا لو میرج کی نازک بنیادوں پر کھڑے کمزور رشتے اکثر چل نہیں پاتے جس کا نتیجہ طلاق کی صورت میں نکلتا ہے
مس میچ افراد اور خاندانوں میں رشتے
اکثر خاندان اپنے سے اونچے یا بہت نیچے خاندانوں سے رشتے جوڑ لیتے ہیں جن کے رہن سہن طور طریقوں اور زندگی گزارنے کے سٹائل میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے اور پھر انہی مس میچ رشتوں کے بیچ پڑنے والی دراڑیں طلاقوں تک پہنچ جاتی ہیں لہٰذا لومیرج ہویا ارینجڈ میرج کسی بھی صورت میں مناسب خاندانوں کا انتخاب سب سے زیادہ ضروری ہے اپنے بچوں کی زندگی خراب کرنے سے بہتر ہے کہ رشتہ ہی مناسب جگہ پر کر لیا