ٹانسلزدولمف نوڈس ہیں جو آپ کے گلے کے پچھلے حصے میں موجود ہوتے ہیں۔یہ دفاعی طریقہ کارکے طور پر کام کرتے ہیں۔یہ ہمارے جسم کو کسی بھی قسم کے انفیکش سے روکتے ہیں۔جب ان میں انفیکشن ہوجائے تو اس کو ٹانسلائٹس کہتے ہیں۔اس حالت میں گلے میں سوزش ہوتی ہے اور کوئی بھی چیر نگلنے میں دشواری ہوتی ہے۔
ٹانسلز کسی بھی عمر میں ہوسکتے ہیں یا یہ بچپن سے بھی ہوسکتے ہیں۔ٹانسلائٹس کی تشخص آسان ہے۔اس کی علامات 7سے 10 دن کے اندر پتہ چل جاتی ہیں۔اس میں گلے کی سوزش،بخار اور گلے میں درد ہوتی ہے۔اگرآپ جاننا چاہتے ہیں آپ ٹانسلز کی بیماری میں مبتلا ہیں یا نہیں تو یہ بلاگ آخر تک لازمی پڑھئیں۔
ٹانسلز کی علامات-
ہم ٹاسلائٹس کی علامات کے بارے میں کیسے جان سکتے ہیں اس کی علامات مندرجہ ذیل ہیں؛
ٹاسلائٹس کی 3 اقسام ہیں جن میں شدید،دائمی اور بار بار ٹانسلز کا ہونا شامل ہے۔ٹانسلائٹس کی ممکنہ یہ علامات ہوسکتی ہیں؛
گلے کی سوزش-
کھانا یا کوئی چیز نگلتے وقت دشواری یا درد-
بدبو-
بخار-
سردی کا لگنا-
پیٹ میں درد-
سردرد-
گردن کا اکڑنا-
لمف نوڈز کا سوجنا-
ٹانسلز جو سرخ رنگ کے دکھائی دے-
ٹانسلز جن پر سفید یا پیلے دھبے ہوں-
بڑوں میں یہ علامات ظاہر ہوسکتی ہیں اس کے علاوہ بہت زیادہ چھوٹے بچوں میں چڑاچڑاپن اور بھوک کی کمی بھی ہوسکتی ہے۔ٹانسلائٹس کسی بھی وائرس کی وجہ سے ہوسکتا ہے اس کے علاوہ یہ بیکٹریل انفیکشن کی وجہ سے بھہٓی ہوتا ہے۔
شدید ٹانسلائٹس-
ہر بچہ تقریبا ٹانسلائٹس کا شکار ہوتا ہے۔یہ بہت عام ہےجو اس بیماری میں 10 دن تک یا اس سے کم مبتلا رہتا ہے اسے شدید ٹانسلائٹس سمجھا جاتا ہے۔اگر 10 دن سے بھی زیادہ دن تک علامات رہتی ہیں تو اسے دائمی ٹانسلائٹس کہتے ہیں۔اس کے علاوہ سال میں باربار بھی ایسا ہوسکتا ہے۔یہ گھریلو علاج سے بھی ٹھیک ہوسکتے ہیں۔ممکنہ طور پرادویات کی بھی ضرورت پڑسکتی ہے جیسے اینٹی بائیوٹکس۔
دائمی ٹاسلائٹس-
یہ ٹانسلز شدید سے زیادہ دن تک جاری رہ سکتی ہے۔آپ دیرپا تک اس کا تجربہ کرسکتے ہیں۔اس میں گلے کی سوزش،بدبودار سانس اور گلے میں لمف نوڈز کا سوجنا ہے۔اگرآپ دائمی ٹانسلز کا شکار ہیں تو اس کے لئے آپ کو ڈاکٹر سے ملنے کی ضرورت ہے۔
باربار ٹانسلز کا ہونا-
اس میں ٹانسلائٹس آپ کو باربار ہوسکتے ہیں جیسے
ایک سال میں تقریبا 5 یا 7 بار ہونا-
پچھلے 2 سالوں میں کم از کم 5 بار-
پچھلے 3 سالوں میں کم از کم3 بار-
ٹانسلز کی تہوں میں بائیو فلمز کی وجہ سے بار بار ٹانسلائٹس ہوسکتے ہیں۔
ٹانسلائٹس کا سبب-
یہ آپ کی بیماری کے خلاف دفاع کی پہلی لائن ہے۔یہ سفید خون کے خلیات کو تیار کرتے ہیں۔جو جسم میں انفیکشن سے لڑنے میں مدد کرتے ہیں۔یہ بیکڑیا اور وائرس سے لڑتے ہیں جو آپ کے منہ اور ناک کے ذریعے جسم میں داخل ہوتے ہیں۔ٹانسلز بھی ان وائرس کی وجہ سے انفیکشن کا شکار ہوتے ہیں۔یہ عام وائرس کی وجہ سے ہوسکتے ہیں جیسے نزلہ ،زکام اور بیکٹریل انفیکشن وغیرہ۔
وائرل ٹانسلائٹس-
ٹانسلائٹس کی سب سے عام وجہ وائرس ہے۔عام سردی کا سبب بننے والے وائرس ٹانسلائٹس کا ذریعہ ہوتے ہیں۔لیکن دوسرے وائرس بھی اس کا سبب بن سکتے ہیں۔اگرآپ کو وائرل ٹانسلائٹس ہیں تو آپ کوکھانسی آنا،ناک بھرناشامل ہے۔اگر اینٹی بائیوٹکس کام نہیں کررہی توآپ ہائیڈریٹ رہ کردوبارہ ڈاکٹر سے ملنے کی ضرورت ہے۔
بیکٹریل ٹانسلائٹس-
یہ ٹانسلائٹس 15 سے 30 فیصد تک بیکٹریا کی وجہ سے ہوتے ہیں۔بیکٹریل انفیکشن عام طور پر 5 سے 15 سال کے بچوں میں عام ہے۔
گھریلو علاج-
آپ کو ٹانسلائٹس کے علاج کے لئے اگر اینٹی بائیوٹکس سے آرام نہیں آرہا تو آپ کو اس کے ساتھ ساتھ زیادہ سے زیادہ پانی کا استعمال کرنا چاہیے۔بہت زیادہ آرام کی ضرورت ہوسکتی ہے آپ کو اس کے علاوہ نمک کے پانی سے گرارے بھی لازمی کرنے چاہیے۔آلودگی اور دھوئیں سے بچنا چاہیے۔ان س اختیاط کے باوجود اگرآپ کو آرام نہیں مل رہا توآپ مرہم ڈاٹ پی کے کی ویب سائٹ سے ڈاکٹر کی اپاینمنٹ حاصل کرسکتے ہیں۔
اس کے علاوہ آن لائن کنسلٹیشن کے لئے آپ اس نمبر پر 03111222398 آن لاین کنسلٹیشن لے سکتے ہیں۔