سنگھارے کے فوائد صحت کے لحاظ سے بہت سارے ہیں یہ دلدل اور کھڑی جیھلوں میں پایا جاتا ہے یہ شکل اور ذائقے کے لحاظ سے اتنا اچھا نہیں ہوتا یہی وجہ ہے کہ ہم اسے نظر انداز کر دیتے ہیں بہت سے لوگ اس کے خستہ اور ناریل جیسے ذائقے کو پسند کرتے ہیں
سنگھارے کے فوائد سے بہت کم لوگ واقف ہیں ایشیاء میں اس پھل کو سنگھارے کے نام سے جانتے ہیں جبکہ اس کو پانی پھل بھی کہا جاتاہے یہ بہت سے طبی فوائد کا حامل ہے
سنگھارے غذائیت بخش اجزاء سے بھر پور
تازہ سنگھارا کاربوہائیڈریٹ پروٹین آئرن اور آیوڈین سے بھر پورہوتے ہے جبکہ اس میں پوٹاشیم میگنیشیم زنگ اور کاپر کافی مقدار موجود ہوتا ہے اور ملٹی وٹامنز کی دوگنی مقدار موجود ہوتی ہیں
سنگھارے متوازن غذاء
یہ صحت مند زندگی کے لیے یہ ایک متوازن غذاء ہے غذائیت سے بھرپور ہونے کے ساتھ اس میں بہت کم کیلوریز ہوتی ہیں 100گرام سنگھارے میں کیلوریز97 چربی 0.1 گرام کاربوہائیڈریٹ 23.9گرام فائبر3گرام پروٹین 2گرام پوٹاشیم ٪17 مینگیج٪17 کاپر٪16 یہ فائبر حاصل کرنے کا بہترین زریعہ ہے ایک تحقیق کے مطابق زیادہ مقدار میں فائبر کا استعمال آنتوں کی کارکردگی کوبہتر بناتا ہے خواتین کے لیے ٪12 فائبراور مردوں کے لیے ٪8 فائبر کافی ہوتا ہے
یہ کولیسٹرول کی سطح کو کم کرتا ہے اور خون میں شوگر لیول کو برقرار رکھتا ہے اس پھل کو تازہ بھی کھا سکتے ہیں اور ابال کر بھی کھایا جاتا ہے یہ جسم اور دماغ کی قوت مدافعت بڑھاتا ہے
سنگھارے بیماریوں میں مفید
یہ غذایئت فراہم کرنے کے ساتھ جسم میں موجود بیماریوں کے خلاف بھی لڑتا ہےیہ جسم کے زہریلے اثرات کو دورکرنے کے ساتھ یہ پھل ان افراد کے لیے مفید ہے جو یرقان کے مرض کا شکار ہیں اس طرح یہ تھائی رائیڈ کی بیماری میں بھی معاون ثابت ہوتا ہے جسم کو ٹھنڈا کرنے لعاب دہن بنانے اور پیاس بھجانےکا کام بھی کرتا ہے پیشاب کے انفیکشن کے لیے مفید ہے سوجن کو دور کرتا ہے اور خون صاف کرتا ہے

سنگھارے سے وائرس اور کینسر کا بچاؤ
سنگھارے پولی فینولک اور اینٹی آکسیڈینٹ ہوتے ہیں جو بیکٹریا اور وائرس کش ہونے کے ساتھ کینسر کی بھی روک تھام کرتے ہیں تلی کو مضبوط بناتے ہیں اور تلی میں آنے والی کمزوری کی علامات جیسے منہ کا ذائقہ خراب ہونا نیند کا نہ آنا خود کو بیمار محسوس کرنا تھکاوٹ کا ہونا سوجن یا پیشاب کے انفیکشن کو روکتا ہے یہ جسم میں موجود زہریلے خلیات سے لڑتا ہے
سنگھارے حاملہ خواتین کے لیے مفید
سنگھارے کے آٹے سے بنائے جانے والا دلیہ زیادہ کریم والا ہوتا ہے اور بچے کی پیدائش کے بعد ماں کو جریان خون کو کنٹرول کرنے کے لیے دیا جاتا ہے اس کے خشک بیچ خون کے بہاؤ کو روکتے ہیں اور خواتین میں اسقاط حمل کے مسائل پو قابوپانے میں مدد گار ثابت ہوتے ہیں اس کا ریشہ انتڑیوں کے لیے مفید ہے اور جسم کی اندرونی حرارت کو دور کرتا ہے
سنگھارے سے ہاضمے کو بہتر بنا ئیں
ہاضمے کو بہتر بناتا ہے اس میں موجود فائبر غذاء کو بہتر طور پر ہضم ہونے میں مدد دیتا ہے معدے اور آنتوں کو صاف کرتا ہے اسے کھانے سے وزن نہیں بڑھتا اس میں زیادہ تر کیلوریز کاربوہائیڈریٹ سے ملتی ہیں تاہم اس میں کیلوریز کم ہوتی ہیں کیونکہ اس میں ٪75 پانی ہوتا ہے
قوت مدافعت کو بہتر بناۓ
اس میں بیماریوں کے خلاف آکسیڈینٹ کی مقدار زیادہ ہوتی ہے یہ ایسے آکسیڈینٹ مالیکیولز ہوتے ہیں جو جسم میں موجود نقصان دہ مالیکیولز کے خلاف لڑتے ہیں انھیں ریڈیکلز کہتے ہیں یہ آزاد ریڈکلزجسم میں جمع ہو کر جسم کے قدرتی دفاع کو کمزور کرتے ہیں
جس سے ایسی بیماریاں پیدا ہو سکتی ہے آکسڈیٹیوسٹرس کہتے ہیں جس کی وجہ سے دل کی بیماریاں ذیابیطس اور کئی قسم کے کینسر کا سبب بن سکتے ہیں ایک تحقیق کے مطابق سنگھارے میں اینٹی آکسیڈینٹ حوصیات موجود ہوتی ہیں جو دائمی بیماریوں کی وجہ سے پیدا ہونے والے ریڈکلز کو بے اثرکرتے ہیں
اس میں موجود آکسیڈینٹ بلڈپریشر کو کم کرتا ہے اور دل کے امراض سے محفوظ رکھتا ہے ہائی بلڈ پریشر کے سبب فالج کا اٹیک ہوسکتا ہے ہارٹ اٹیک اور موت کی وجہ بن سکتا ہے اس میں پوٹاشیم موجود ہوتی ہیں پوٹاشیم کی وافر مقدار فالج اور دل کی بیماریوں کے خطرے سے محفوظ رکھتی ہے اس میں موجود فیرولک ایسڈ چھاتی کے کینسر سے بچاتا ہے
وزن کم کرتا ہے
اس میں بہت کم کیلوریز ہوتی ہیں اور کم کیلوریز کے زریعے وزن کم کرنا آسان ہو جاتا ہے اسے پیٹ بھر کے کھانے سے وزن نہیں بڑھے گا اسے مختلف طریقوں سے پکایا جاسکتا ہے اسے کچا بھی کھا سکتے ہیں اور پکا کر بھی کھایا جاتا ہے سلاد کے طور پر بھی یہ استعمال ہوتا ہے اسکا سالن بھی بنایا جاتا ہے یہ پکنے کے باوجود خستہ اور کرارے رہیتے ہیں
ایشیاء میں اس کا استعمال زیادہ کیا جاتا ہے اسے اچار کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے اور تازہ چھیل کر بھی کھایاجاسکتا ہے اس کا ذائقہ سب سے منفرد ہوتا ہے