منہ کے چھالوں کی دوااستعمال کرنے سے پہلے ایک اچھے اور مستندڈاکٹر کی رائے لازمی ہے۔لیکن ہم گھر میں بھی مختلیف طریقوں سے بھی علاج کرسکتے ہیں۔دنیا میں 5 افراد میں سے 1 کو لازمی منہ کےچھالوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔عام طور پریہ چھالے پھٹی ہوئی جلد کی شکل میں نمودار ہوتے ہیں۔
منہ کے چھالوں کو کینکر تسورس بھی کہاجاتا ہے۔یہ ہونٹوں ،زبان اور منہ کےاندر پائے جاتے ہیں۔ان چھالوں کا سامنا کسی کو بھی ہوسکتا ہے۔اگرآپ بھی کبھی اس مسئلے میں مبتلا ہوئے ہیںآپ کے لئے یہ آرٹیکل مددگارثابت ہوسکتا ہے۔
منہ کے چھالوں کی کیا وجہ ہوسکتی ہے؟-
اگر آپ منہ کے چھالوں کا دوبارہ شکار ہورہے ہیں توآپ کو ان کی وجوہات بھی معلوم ہونی چاہیے تاکہ آپ ان کا علاج کرسکیں۔یہ کبھی بھی واضح نہیں ہوا کہ منہ کے چھالے کیوں ظاہر ہوتے ہیں لیکن کچھ محرکات کا جاننا لازمی ہے وہ یہ ہیں؛
تناؤ یا اضطراب-
منہ کے اندر گال کوکاٹنا-
زیادہ مصالحہ دار چیزوں کا استعمال-
سپاری یا چھالیہ کا استعمال-
تمباکو نوشی-
منہ کے چھالے تکلیف دہ بھی ہوسکتے ہیں۔یہ زخم کی صورت بھی اختیار کرسکتے ہیں۔یہ ہفتے یا 10 دن میں ٹھیک ہوجاتے ہیں۔
منہ کے چھالوں کاعلاج-
ہم منہ کے چھالوں کا علاج کیسے کرسکتے ہیں وہ طریقے جانتے ہیں؛
پھٹکری کا پاؤڈر-
الوم پاؤڈرایلومینیم سلفیٹ سے بنایا گیا ہے۔یہ اکثر کھانوں کو محفوظ کرنے اور سبزیوں کے اچار کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔پھٹکری میں ایسی خصوصیات موجود ہوتی ہیں جو ذخم کو خشک کرنے میں مدد کرتی ہیں۔اس کے علاوہ یہ ٹشوز کو سکڑنے میں مدد دیتے ہیں۔
پھٹکری کی تھوڑی سی مقدار میں پانی ملاکر پیسٹ بنائیں۔
اس کو اپنے منہ کے چھالوں پر ایک منٹ کے لئے لگائیں۔
اس کے بعد اچھی طرح کلی کریں۔
روزانہ یہ طریقہ دہرائیں جب تک چھالیں ختم نہ ہوجائیں۔
نمکین پانی-
اپنے منہ کو جراثیموں سے پاک کرنا اور نمکین پانی سے دھونا ایک گھریلو علاج ہے۔یہ بھی چھالون کو خشک کرنے کا کام دیتا ہے۔اس کے علاوہ یہ تکلیف دہ ہوسکتا ہے۔
نیم گرم پانی میں تھوڑی سی مقدار میں نمک ڈال کر محلول بنائیں۔
اس محلول کو 15 سے 30 سیکنڈ تک اپنے منہ میں گھمائیں۔
ضرورت کے مطابق چند گھنٹوں میں دوبارہ بھی دہرا سکتے ہیں۔
ناریل کا تیل-
بہت سے مطالعات سے یہ بات پتہ چلتی ہے کہ ناریل کے تیل میں جراثیم کش خصوصیات موجود ہوتی ہیں۔یہ بیکٹریا کی وجہ سے منہ کے چھالوں کو پھیلنے سے روک سکتا ہے۔اس کے علاوہ یہ ان کا علاج بھی کرسکتا ہے۔یہ سوزش کو کم کرتا ہے۔اس کے علاوہ یہ لالی کو بھی کم کرتا ہے۔
زخم پر یا چھالوں پر دن میں کئی بار لگائیں۔یہ اس علاج کے لئے مفید ہے۔
شہد-
اس میں بھی اینٹی بیکٹریل اور اینٹی سوزش خصوصیات پائی جاتی ہیں۔اس میں لالی کو کم کرنے کی خصوصیات پائی جاتی ہیں۔اس کے علاوہ یہ انفیکشن کو بھی روکنے میں مدد کرتا ہے۔استعمال کرنے کے لئے روزانہ 4 بار زخم پر شہد لگائیں۔
بیکنگ سوڈا-
اس کےبارے میں خیال کیا جاتاہے کہ یہ پی ایچ لیول کے توازن کو بحال کرتا ہے اور سوزش کو کم کرتا ہے۔آپ اس کی مدد سے بھی منہ کے چھالوں کا علاج کرسکتے ہیں۔کیونکہ یہ بھی بیکٹریا کو مارنے کےلئے مفید ہے۔اس کو بہت سے کھانوں میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
آدھا چائے کا چمچ بیکنگ سوڈا پانی میں ملائیں۔
اس محلول کو 15 سے 30 سیکنڈ کے لئے اپنے منہ میں گھمائیں۔پھر اسے تھوک دیں۔
منہ کے چھالوں کی دوا-
ہم منہ کے چھالوں کے علاج کے لئے دوا یا اینٹی سیپٹک جیل کا بھی استعمال کرسکتے ہیں۔اس کے علاوہ بہت سی اینٹی بائیوٹک ادویات بھی فائدہ مند ثابت ہوتی ہیں۔اگرآپ منہ کے چھالوں میں مبتلا ہیں تو ڈاکٹر کی رائے سے ان کا استعمال کریں۔
اگرآپ کے منہ کے چھالے سنگین صورت اختیار کرتے ہیں۔توآپ مرہم ڈاٹ پی کے کی ویب سائٹ سے ڈاکٹر کی اپائنمنٹ حاصل کریں۔اس کے علاوہ آپ اس نمبر پر 03111222398 آن لاین کنسلٹیشن بھی لے سکتے ہیں۔