ذہنی دباؤآجکل ہر بالغ میں بہت عام ہے۔بہت سےلوگ تناؤکوجذباتی تناؤسمجھتے ہیں جوان کے مزاج اور خوشیوں کومتاثرکرتاہے۔لیکن اس کے جسمانی اثرات بھی اتنے ہی نقصان دہ ہوسکتے ہیں۔لیکن ہم ذہنی دباؤ کی وجہ سےصحت کےایسے مسائل سے دوچار ہوسکتے ہیں جو ہمارے لئے نقصان کا باعث بنتے ہیں۔
اس کی وجہ سے ایسےصحت کے مسائل پیداہوتے ہیں۔جوہمیں دن بدن کمزور بنا دیتے ہیں۔ہم ذہنی دباؤ کی وجہ سے کن بیماریوں میں مبتلا رہ سکتے ہیں اگرآپ جاننا چاہتے ہیں تو اس بلاگ پر میرے ساتھ رہیں۔
ذہنی دباؤ کی وجہ سے ہونے والے مسائل-
یہ ایک ایسی بیماری ہے جو وقت کےساتھ ساتھ آپ کو سنگین صورتحال میں مبتلا کرسکتی ہے۔اوراس کی وجہ سے مختلیف بیماریوں میں مبتلا ہوکر آپ جان کی بازی بھی ہار سکتے ہیں۔ذہنی دباؤ کی وجہ سے ہونے والی بیماریاں یہ ہوسکتی ہیں؛
معدےکے مسائل-
باربار پیٹ میںدرد،اپھارہ،اسہال یا قبض کی بیماری ذہنی دباؤ کی وجہ سے ہوسکتی ہے۔تناؤ ہماری صحت پر بہت سے منفی اثرات کو مرتب کرتا ہے۔ہم تناؤ یا ڈپریشن کی وجہ سے معدے کے مسائل میں مبتلا ہوتے ہیں۔اگرآپ معدے کی کسی بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں تواس کا مطلب یہ ہے کہ آپ بہت سی اور بیماریوں میں بھی مبتلا ہوسکتے ہیں۔
اس لئے آپ جتنا خود کو ذہنی دباؤ سے بچاتے ہیں اتنی ہی صحت مند زندگی گزار سکتے ہیں۔
دل کی بیماری-
ایک مطالعے سے یہ بات سامنےآئی ہے کہ جو لوگ تناؤ کا شکار ہوتے ہیں وہ ہائی بلڈ پریشر میں مبتلا ہونے کے ساتھ ساتھ دل کی بیماری میں بھی مبتلا ہوسکتے ہیں۔اور دل کی بیماری موت کا باعث بھی بن سکتی ہے۔تناؤ کی وجہ سےدل کی شرح بڑھنے کے ساتھ کولیسٹرول کی سطح میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
اس کے علاوہ انسان اس کواس کی وجہ سے دل کا دورہ بھی پڑسکتا ہے۔اس لئے تناؤ کا انتظام کرنا چاہیے تاکہ آپ کسی قسم کی پریشانی یا صدمے سے بچ سکیں۔
دمہ-
یہ بھی ایک سانس کی بیماری ہے۔بہت سے مطالعات یہ بات ظاہر کرتے ہیں کہ تناؤ،ڈپریشن یا ذہنی دباؤ کی وجہ سے ہم دمہ کی بیماری کا شکار ہوتے ہیں۔اس لئے آپ کو اس بیماری سے بھی محفوظ رہنے کے لئے خوشگوار زندگی گزارنی چاہیے۔
موٹاپا-
جسم پر ضرورت سے زیادہ چربی اورموٹاپا بھی بیماری کا باعث بنتے ہیں۔تناؤ کی وجہ سے ایک ہارمون کورٹیسول کا سبب بنتا ہے جس وجہ پیٹ میں جمع ہونے والی چربی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔اس لئے ہمیں موٹاپا کی بیماری سے بچنے کے لئے اپنی غذا پر کنٹرول کرنے کے علاوہ تناؤ سے بھی بچنے کے طریقے ڈھونڈنے چاہیے۔تاکہ ہم مزید مشکلات سے بچ سکیں۔
ذیابیطس-
یہ ایک ایسی خاموش بیماری ہے جو ہمیں موت کے منہ میں لے جاسکتی ہے۔اس کی صحت کے ساتھ دشمنی رہی ہے۔جب ہمیں پریشان رہتے ہیں تو ہم اس بیماری کو دعوت دیتے ہیں۔کیونکہ تناؤ میں رہنے سے ہم اس بیماری کا شکار ہوسکتے ہیں۔اگرآپ چاہتے ہیں کہ آپ عمر کے آخری حصے میں بھی میٹھے سے لطف اندوز ہوتے رہیں تو ڈپریشن سے پاک زندگی جیئں۔
سردرد-
دردِشقیقہ یا سردرد ایک ایسی حالت ہے جو آپ کو بے چین کرسکتی ہے۔جب ہم مسلسل تناؤ کا شکار رہتے ہیں تو ہم سردرد میں مسلسل مبتلا ہوتے ہیں۔جو ہماری صحت کے لئے اچھا نہیں ہے۔
تناؤ ایک احساس نہیں ہے۔جب آپ پریشان ہوتے ہیں تواس کی وجہ سے آپ کے خون کی رگیں تنگ ہوسکتی ہیں۔ہمارا بلڈ پریشر اس کی وجہ سے بڑھ سکتا ہے۔اگرآپ تناؤ سے بچنا چاہتے ہیں تو خود کو مصروف رکھیں اور ورزش لازمی کریں۔اس سے آپ کو ذہنی دباؤ سے چھٹکارا مل سکتا ہے۔
اگرآپ ڈپریشن جیسی بیماری میں مبتلا ہیں تو اسے نظر انداز نہ کریں فوری گھربیٹھے مرہم ڈاٹ پی کے کی وب سائٹ سے ڈاکٹر سے مشورہ حاصل کریں یااس کے علاوہ آپ اس نمبر پر 03111222398 آن لاین کنسلٹیشن حاصل کریں۔