بچے ضد کریں اور ماں باپ نہ دیکھیں ایسا نہیں ہوتا۔بہت سے ماں باپ ایسے ہونگے جو اپنے بچوں کی ضد کو بھی پورا کرتے ہونگےاوران کی بات بھی مانتے ہونگے۔والدین کی سمجھداری اسی میں ہے کہ جب آپ کا بچہ غصے کی حالت میں ہو تو اسے پیار سے سمجھائیں نہ کہ اس پر غصہ کریں۔
ہم اپنے بچوں کو کیسے غصہ کنٹرول کر سکتے ہیں اور اگرآپ کے بچے ضد کرتے ہیں توہم اس کو کس طریقے سے مینج کرسکتے ہیں؟اگرآپ یہ سب جاننا چاہتے ہیں تو اس بلاگ پر میرے ساتھ رہیں۔کیونکہ یہ آپ کی آپ کے بچوں سے متعلق راہنمائی کرسکتا ہے۔
بچے ضد کریں تووالدین کو کیاکرنا چاہیے؟-
بہت سے والدین ایسے ہیں جن کے بچے ضدی ہوتے ہیں بجائے ان پر غصہ کرنے کے ماں باپ کو بہتر طریقے سے سمجھ کر چلنا چاہیے تاکہ آپ کے بچے کا بھی نقصان نہ ہو اورآپ کا بھی۔
پرسکون رہیں-
اگرآپ کا بچہ بہت زیادہ جارحانہ رویے کا اظہار کر رہا ہو توآپ پرسکون رہیں۔آپ اپنے بچے پر غصہ نہ ہوں یا چلائیں نہ ایسا کرنے سے سے بچے کی جارحیت بڑھ سکتی ہے۔بلکہ آپ اس حالت میں پرسکون رہیں۔اور اس پر کنٹرول کرنے کا کوئی نمونہ بنائیں۔
ہنگامہ آرائی-
اگرآپ کا بچے ضد میں آکر کوئی ہنگامہ آرائی کرتے ہیں مثال کے طور پر آپ کا بچہ کسی دوکان پر آپ سے کوئی بھی چیز لینے کی فرمائش کرتا ہے یا ضد کرتا ہے تو اس کو وہ چیز نہ خرید کر دیں۔ایسا کرنے سے آپ کا بچہ ہمیشہ آپ کے ساتھ یہ ہی رویہ اپنا سکتا ہے۔
اپنے بچے کو انعام دیں-
آپ اپنے بچوں کی حوصلہ افزائی کرنے کے لئے انہیں انعام دیں۔اگرآپ کا بچہ کوئی اچھا کام کرتا ہے توآپ اسے تحفہ کےطور پر کچھ دیں۔اس سےآپ کے بچے میں خوداعتمادی آتی ہے اورآپ کے بچے میں آپ سے زیادہ لگاؤ ہوتا ہے۔آپ اپنے بچے کے کسی اچھے کام میں اس کی تعریف کریں۔
بھرپور نیند-
بہت سے بچے ایسے بھی ہوتے ہیں جن کو زیادہ نیند کی ضرورت ہوتی ہے۔اگران کی نیند نہ پوری ہورہی ہو توآپ کے بچے ضد کرسکتے ہیں یا غصہ دکھا سکتے ہیں۔اس لئے ان کو نیند پوری کرنے میں ان کی مدد کریں۔اگرآپ کا بچہ 5 سال کی عمر میں ہے تو بہت سی سرگرمیاں رونما ہوتیں ہیں جیسے اسکول جانا۔
گلے لگائیں-
کچھ بچوں کو بہت زیادہ توجہ چاہیے ہوتی ہے اگرآپ کا بچہ بھی ان میں ہے تو آپ کو جسمانی رابطے کی بھی ضرورت ہو گی۔آپ اپنے بچوں کو گلے لگائیں۔ان کے ساتھ بیٹھ کر ان کی بات کریں اور مل کر کتابیں پڑھئیں۔
ضد کی وجہ کو پہچانیں-
اگرآپ کے بچے ضد کررہے ہیں تو اس کی جارحیت یا غصے کو پہچانیں۔ماہر نفسیات کے مطابق زیادہ تر امکان یہ ہوتا ہے کہ بچے اپنے والدین کے آگے اپنی پریشانی یا الجھن بتانے سے قاصر ہوتے ہیں۔اس حالت میں وہ زیادہ تر غصہ دکھانے یا دھکا مارنے کی حالت رکھتے ہیں۔
ان پر غصہ کرنے کی بجائے ان کے غصے کی وجہ جانیں اور ان سے بات کریں۔بچے ضد کریں تو ان سے پیار سے بات کریں۔
اصول بنائیں-
اپنے بچوں کی ضد اور غصے کو کنٹرول میں کرنے کے لئے کچھ اصو بنائیں کہ اسکول یا گھر میں جارحیت کی کو ئی قابل قبول شکل نہیں ہے۔اس کے علاوہ والدین کو اساتذہ سے بھی مدد لینے کی ضرورت ہےتاکہ آپ بہتر طریقے سے ان کی مدد کرسکیں۔اس کے علاوہ اپنے بچوں کی حرکات پر بھی نظر رکھیں۔
بہت سے والدین اپنے بچے کی اچھی تربیت چاہتے ہیں لیکن بعض کوشیشوں کے باوجود بھی آپ کے بچے کا غصہ نہیں ٹھنڈا ہورہا توآپ کو ڈاکٹر سے بھی رائے لینے کی ضرورت ہے۔آپ مرہم ڈاٹ پی کے کی ویب سایٹ سے ڈاکٹر کی اپائینمنٹ لے سکتے ہیں۔
اس کے علاوہ آپ اس نمبر پر بھی 03111222398آن لاین کنسلٹیشن لے سکتے ہیں۔