یرقان کی علامات میں انسان کی جلد ، اور آنکھوں کی رنگت پیلی پڑ جاتی ہے یہی سبب ہے کہ اس بیماری کو پیلیا بھی کہا جاتا ہے ۔ یرقان بنیادی طور پر کوئی بیماری نہیں ہے بلکہ یہ ایک بیماری کی علامت ہے
یہ علامات اس وقت ظاہر ہوتی ہیں جب کہ کسی بھی انسان کے خون میں بلیو ربن کی مقدار بہت زیادہ ہو جاۓ بلیو ربن درحقیقت پیلے رنگ کے وہ پگمنٹ ہوتے ہیں جو کہ جگر کے سرخ خلیات کے مرنے کے سبب پیدا ہوتے ہیں جس کی وجہ سے جگر کے افعال میں شدید مشکلات پیدا ہوتی ہیں
یرقان کی علامات کا سبب بنے والی بیماریاں
ہیپا ٹائٹس


یہ جگر کی وہ حالت ہےجس میں جگر میں سوزش ہو جاتی ہے اس کی مدافعت کی صلاحیت کمزور ہو جاتی ہے اس کا سبب بہت زیادہ خون کی کمی ، ادویات کا اثر یا پھر نشہ اور اشیا کا استعمال اور شراب نوشی ہو سکتا ہے ۔
اس کی شدت اس کے وجوہات کے مطابق مختلف ہو سکتی ہے اس کی دیگر علامات میں شدید تھکن ، بھوک کا ختم ہو جانا ، متلی ، یا الٹی کا آنا ، جلد پر خارش ،پیٹ کے اوپری دائیں جانب میں درد اور جلد اور آنکھوں کا پیلا پڑ جانا شامل ہیں ۔ بعض اوقات اس کی شدت کے بڑھ جانے کی صورت میں پیٹ میں پانی بھر جانا بھی اس کی علامات میں شامل ہیں
تھیلی سیمیا


تھیلی سیمیا خون میں موجود ہیموگلوبین کے خلیات کی شکل میں تبدیلی کی صورت میں ہوتا ہے ۔ یہ ایک وراثتی بیماری ہے اس کی وجہ سے خون کے سرخ ذرات ختم ہونے لگتے ہیں جس کی وجہ سے خون کی شدید کمی یا انیمیا ہو سکتا ہے ۔ تھیلیسیمیا کی شدت کے حوالے سے اس کی مختلف اقسام ہو سکتی ہیں ۔ لیکن اس کے ہونے کی صورت میں بھی یرقان کی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں ۔ تھیلی سیمیا کی دیگر علامات میں چہرے کی ہڈیوں اور جسم کی دوسری ہڈیوں کی ہئيت میں تبدیلی واقع ہو سکتی ہے
اس کے علاوہ پیشاب کی رنگت بھی پیلی ہو جاتی ہے تھکن کے ساتھ آنکھوں اور جلد کا پیلا پن بھی اس کی علامات میں شامل ہیں جو کہ یرقان ہی کہلاتا ہے
پنکریاز کا کینسر


پنکریاز اینڈو کرائن نظام کا وہ حصہ ہے جو کہ معدے کے پچھلی جانب موجود ہوتا ہے ۔ اس کے خلیات میں اگر کینسر کے خلیات پیدا ہو جائیں تو ان کی نمو میں خرابی پیدا ہو جاتی ہے جس کو پنکریاز کا کینسر کہا جاتا ہے ۔ یہ کینسر عام طور پر ابتدائی مرحلے میں کسی قسم کی یرقان کی علامات ظاہر نہیں کرتا ہے اس وجہ سے اس کے بارے میں جب پتہ چلتا ہے تب تک یہ آخری اسٹیج پر پہنچ چکا ہوتا ہے
اس کی علامات میں بھی یرقان کی علامات کی طرح بھوک کا ختم ہو جانا ، وزن میں تیزی سے کمی ،پیٹ اور کمر کے اوپری حصے میں درد ، جلد کا اور آنکھوں کا پیلا پڑ جانا شامل ہیں
ہیپاٹائٹس بی


ہیپاٹائٹس بی وائرس سے جگر کے متاثر ہونے کی صورت میں یہ بیماری ہو سکتی ہے ۔ یہ بیماری متاثرہ شخص کے خون ، متاثرہ سرنج کے استعمال سے متاثرہ مریض سے جنسی تعلق قائم کرنے کی صورت میں ہو سکتی ہے
اس صورت میں ہونے والے یرقان کی علامات میں تھکن ، پیشاب کا گاڑھاپن اور پیلا ہونا ، جوڑوں اور پٹھوں میں درد ، بھوک کا ختم ہو جانا ، کمزوری اور جلد کا پیلا پن شامل ہے یہ ایک جان لیوا بیماری ہے اس میں جگر کام کرنا چھوڑ بھی سکتا ہے جس کی وجہ سےموت بھی واقع ہو سکتی ہے
ہیپاٹائٹس سی


یہ بیماری ہیپاٹائٹس سی وائرس سے متاثر ہونے کی صورت میں ہوتی ہے اس کے نتیجے میں جگر میں سوزش ہو جاتی ہے یہ بیماری متاثرہ مریض کے خون کے صحت مند انسان سے منتقل ہونے کی صورت میں ہوتی ہے ۔ اس کی علامات اسی فی صد مریضوں میں ظاہر نہیں ہوتی ہیں ۔ اور جن افراد میں اس کی علامات ظاہر ہوتی ہیں ان میں ساری ہرقان کی علامات ہی دیکھنے میں آتی ہیں جن میں بخار ، بھوک کا ختم ہو جانا ، آنکھوں اور جلد کا پیلا ہو جانا ، پیشاب کی رنگت کا پیلا ہونا شامل ہیں۔۔
ہیپا ٹائٹس ای کی صورت میں یرقان کی علامات
یہ بیماری ہیپا ٹائیٹس ای کے وائرس کی وجہ سےہوتی ہے یہ ایک خطرناک شدید نوعیت کی کی بیماری ہے یہ گندا پانی اور آلودہ غذا کھانے سے ہوتی ہے اس کے علاوہ متاثرہ مریض کے خون کو صحت مند فرد کو لگانے سے یا متاثرہ ماں سے پیدا ہونے والے بچے کو بھی منتقل ہو سکتا ہے ۔
اکثر افراد میں یہ وقت کے ساتھ خود ہی ٹھیک ہو جاتا ہے مگر بعض اوقات اس کا انفیکشن اتنا شدید ہوتا ہے جو کہ جگر کے فیل ہونے کا سبب بھی بن جاتا ہے اس بیماری میں بھی یرقان کی علامات سامنے آتی ہیں جن میں بخار ، تھکن ، جلد آنکھوں کا پیلا پن وغیرہ شامل ہیں
یہ تمام بیماریاں بہت خطرناک ہین اور ان کے ہونے کی صورت میں یرقان کی علامات ظاہر ہوتی ہیں اس وجہ سے اگر کسی بھی فرد میں یرقان کی علامات ظاہر ہوں تو ان کو معمولی سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیۓ بلکہ کسی ماہر اور مستند ڈاکٹر کے مشورے سے ٹیسٹ کروا کر یرقان کے اسباب معلوم کرنا ضروری ہے اس کے بعد اس کا علاج کروانا ہے