ماہواری کا بھاری خون بہنے کی وجہ سے آپ ہر ایک یا دو گھنٹے بعد آپ اپنا پیڈ تبدیل کرتے ہیں اور بھاری ماہواری صرف ایک پریشانی نہیں ہے بلکہ بعض صورتوں میں اس سے جسم میں خون کی کمی ہوجاتی ہے یعنی خون کے سرخ خلیات کی مقدار غیر معمولی طور پر کم ہونا شروع ہوجاتے ہیں بھاری ماہواری میں خون کی کمی سے آپ کو کمزوری ہونا چکر آنا اور سانس کی تکلیف ہوسکتی ہے
ماہواری کے شدید خون بہنے کی بہت سی وجوہات ہیں اس میں تولیدی نالی کے حالات اور پیلوس سے باہر کی بیماریاں شامل ہیں جیسے تھائیرائیڈ گردے یا جگر کے مسائل وغیرہ شامل ہیں صحیح وجہ تلاش کرنے سے آپ اور آپ کے ڈاکٹر کو علاج کی نشاندہی کرنے میں مدد مل سکتی ہے اور بھاری ماہواری سے آرام مل سکتا ہے مزید پریشانی سے بچنے کے لیے آپ مرہم کی سائٹ پہ ڈاکٹرز کا وزٹ کریں یا 03111222398 پہ کال کرکے رابطہ ممکن بنائیں
اینڈومیٹروسس
یہ ایک بیماری ہے جس میں رحم کی اندرونی لائننگ (اینڈومیٹریم) سے ملتا جلتا ٹشو رحم کے باہر بڑھتا ہے اس کے نتیجے میں پیلوس میں درد اور ماہواری کا بے قاعدہ چکر شروع ہوجاتا ہے یہ دوسرے اعضاء سے منسلک ہوتا ہے جیسے بیضہ دانی اور فیلوپیئن ٹیوب ہیں ماہواری کے بھاری خون بہنے کے ساتھ ساتھ انڈومیٹریوسس بانجھ پن جنسی تعلقات کے دوران درد اور پیٹ یا کمر کے نچلے حصے میں درد کا سبب بن سکتا ہے یہ عام طور پر 25 سے 40 سال کی عمر کی خواتین کو متاثر کرتا ہے
انٹریوٹرائن ڈیوائسز (آئی یو ڈی)
حمل کو روکنے کے لئے رحم میں داخل کی جانے والی چھوٹی سی ٹی شکل کی ڈیوائسز ہوتی ہے کچھ آئی یو ڈی میں ہارمونز ہوتے ہیں اور کچھ میں نہیں ہوتے ہیں غیر ہارمونل آئی یو ڈی بعض اوقات بھاری پریڈ کے ساتھ ساتھ طویل اور بے قاعدہ بھاری خون بہنے اور جنسی تعلقات کے دوران درد کا سبب بن سکتے ہیں اگر آپ آئی یو ڈی کے ساتھ کسی بھی قسم کا تجربہ کرتے ہیں تو اپنے ڈاکٹر سے اپنے برتھ کنٹرول کے بارے میں بات ضرور کریں اس کے لیے آپ گھر بیٹھے گائنی کی ڈاکٹر سے مرہم ڈاٹ پی کے پہ ابھی رابطہ کریں
یوٹرن فائبرائیڈز
رحم کے اندر ایک غیر کینسر ٹیومر ہوتا ہے جس کی علامات کا انحصار فائبرائیڈز کے سائز اور جگہ پر ہوتا ہے زیادہ تر اس بیماری کا پتہ معمول کے پیلوس کے معائنے کے دوران لگایا جاتا ہے رحم کے اندر یا باہر یوٹرن فائبرائیڈز بڑھ سکتے ہیں ماہواری میں بھاری خون بہنے کے علاوہ یوٹرن فائبرائیڈز میں کھنچاؤ کمر کے نچلے حصے میں درد پیشاب کرنے میں دشواری اور قبض کا سبب بن سکتے ہیں یوٹرن فائبرائیڈز 30 کی عمر میں خواتین کے لئے زیادہ عام ہیں
یوٹرن پولپس
یوٹرن پولپس انڈومیٹریم میں گیند کی شکل کی طرح نشوونما پاتے ہیں یوٹرن پولپس اکثر نرم ہوتے ہیں لیکن وہ کبھی کبھی کینسر یا کینسرہونے کی نشاندہی کرتے ہیں یوٹرن پولپس کی دیگر علامات میں سب سے اہم بے قاعدہ خون کا بہاؤ ہے جب خواتین مینوپاز کے قریب پہنچنے لگتی ہیں تو پولیپس ان میں زیادہ عام ہوجاتے ہیں
ہارمونز کی خرابی
ہارمونز کی خرابی رحم کی لائننگ کا بڑھنے اور بہت موٹا ہونے کا سبب بن سکتا ہے اس سے ماہواری کا شدید خون بہہ سکتا ہے یہ زیادہ عام ہے اس کا سلسلہ تب شروع ہوتا ہے جب لڑکیاں پہلی بار اپنی ماہواری شروع کرتی ہیں اور یہ تب تک رہتا ہے جب خواتین مینوپاز کے قریب پہنچتی ہیں ایسی صورت میں آپ کو ہارمونز کی جانچ کے لیے ڈاکٹر سے رابطے کی ضرورت ہے آپ گھر بیٹھے مرہم کی سائٹ پہ کلک کرکے رابطہ کریں
ایکٹوپک حمل یا حمل کا ضائع ہونا
ایک ایسی حالت جہاں فرٹیلائزڈ انڈا رحم کے باہر ساتھ ہوتا ہے اگر اس کا علاج نہ کیا جائے تو اس سے جان لیوا خون بہہ سکتا ہے
ایکٹوپیک حمل اور حمل کا ضائع ہونا دونوں بھاری خون بہنے کے علاوہ پیٹ کے نچلے حصے میں درد کا سبب بن سکتے ہیں باربار حمل کا ضائع ہونا آپ کی صحت کا نقصان ہے آپ مرہم ڈاٹ پی کے پہ تجربہ کار ڈاکٹر سے رابطہ ممکن بنائیں
خون بہنے کی خرابی
ماہواری میں خون بہنے کی وجہ خون کو جمنے سے روکتی ہے خون بہنے کی خرابی جو بھاری پریڈ کا سبب بن سکتی ہے ان میں وون ولبرانڈ بیماری ہیموفیلیا اور لیوکیمیا شامل ہیں خون بہنے کی خرابی چوٹ سرجری یا بچے کی پیدائش کے بعد خون بہنے کے ساتھ ساتھ بار بار ناک سے خون بہنے اور زیادہ چوٹ لگنے کا باعث بن سکتی ہے
ایڈینومیوسس
ایڈینومیوسس ایک ایسی حالت ہے جس میں انڈومیٹریم رحم کے پٹھوں کے ٹشو میں بڑھتا ہے بھاری خون بہنے کے علاوہ دیگر علامات میں جنسی تعلقات کے دوران کھنچاؤ اور درد شامل ہیں ایڈینومیوسس ان خواتین میں زیادہ عام ہے جو بچے پیدا کرنے کے بعد سالوں بھول جاتی ہیں کیونکہ ان کا خاندان مکمل ہو چکا ہوتا ہے مگر آپ کو ڈاکٹر سے آپ کے رحم کی باقاعدگی سے جانچ کی ضرورت ہوتی ہے
جو کوئی بھی اپنی ماہواری کو بھاری یا پریشان کن سمجھتا ہے اسے اپنے ڈاکٹر سے اس پر ضرور بات کرنی چاہیے یہ ہمیشہ اہم ہوتا ہے ماہواری کا بھاری خون بہنا خواتین اور نوعمروں لڑکیوں میں ایک بہت عام گائناکولوجیکل حالت ہے اور زیادہ خون بہنے کی وجہ میں مبتلا خواتین کی اکثر شکایت سننے کو ملتی ہے مناسب ہے کہ جس عمر کے گروپ میں خون بہنے کی وجہ ظاہر ہوجائے تو فوری علاج کے لیے ڈاکٹر سے رجوع کریں