کھجور سے افطار لوگوں کی اولین ترجیح ہوتی ہے ۔ اس حوالے سے ان کا یہ ماننا ہوتا ہے کہ کھجور سے روزہ کھولنا چونکہ سنت نبوی ہے. اس وجہ سے وہ اس کی پیروی کرتے ہیں ۔مگر کیا آپ جانتے ہیں کہ کتنی کھجوریں کھانا صحت کے لیۓ مفید ثابت ہو سکتا ہے ۔
مگر اسلام ایک دین فطرت ہے ۔ اس کا کوئی بھی حکم حکمت سے خالی نہیں ہوتا ہے ۔ سنت کے ہر ہر عمل کے پیچھے کوئي نہ کوئی فائدہ ہوتا ہے ۔ اس وجہ سے افطار میں کھجور سے روزہ رکھنا اس حوالے سے فائدہ مند ہوتا ہے ۔ کہ اس وقت جسم کو فوری توانائی کی ضرورت ہوتی ہے .اور کھجور ایک ایسی غذا ہے جو کہ جسم کو فوری توانائي فراہم کرتی ہے.ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ کم از کم تین کھجوریں ایک ماہ تک باقاعدگی سے استعمال صحت پر بہت سارے مثبت اثرات مرتب کرتی ہے ۔
افطار میں روزانہ تین کھجوریں کھانے کے فوائد
کھجور بہت سارے غذائی اجزا سے بھر پور غذا ہے .اور اس کے استعمال سے جسم کے بہت سارے مسائل کا حل نکلتا ہے .جن میں سے کچھ اس طرح ہیں
کارڈیوویسکولر نظام کی بحالی
کھجور میں پوٹاشیم کی بڑی مقدار موجود ہوتی ہے ۔ یہ پوٹاشیم جب روزانہ جسم کا حصلہ بنتا ہے اور خالی پیٹ انسان کھجور افطار کے وقت کھاتا ہے. تو اس سے خون کے اندر موجود برے اثرات والے کولیسٹرول کے لیول میں کمی کا باعث بنتا ہے ۔
یہ کولیسٹرول خون کی نالیوں میں جم کر دل کے دورے کا باعث بن سکتا ہے ۔ ایک ماہ تک افطار کے موقع پر کھجور کا مستقل استعمال اور اس میں موجود پوٹاشیم کولیسٹرول کی شرح کو خون میں کم کر دیتا ہے. جس سے دل کے دورے کے خطرات کم ہو جاتے ہیں
نظام انہضام کو بہتر بناتی ہے
کھجور کا شمار ایسی غذا میں ہوتا ہے جوکہ فائبر سے بھر پور ہوتی ہے ۔ دن بھر روزہ رکھنے کے سبب اکثر افراد قبض کا شکار ہو جاتے ہیں۔ جو کہ پیٹ میں گیس اور تیزابیت کا بھی باعث ہو سکتی ہے ۔
افطار میں کھجور کا استعمال اور تین سے چار کھجور کو کھانے سے تقریبا دس سے بارہ گرام تک فائبر انسان کی غذا کا حصہ بنتا ہے۔ جو کہ نظام انہضام کے افعال کو نہ صرف بہتر بناتا ہے بلکہ اس عمل کو تیز کرتا ہے ۔اور پیٹ میں گیس بننے سے روکتا ہے
آنتوں کے کینسر کے خطرے کو کم کرتی ہیں
ڈپارٹمنٹ آف فوڈ اینڈ نیوٹریشن امریکہ کی تحقیقات کے مطابق جو لوگ روزانہ کھجور کھاتے ہیں۔ ان کے اندر آنتوں کے کینسر کا خطرہ بہت کم ہو جاتا ہے
انسان کے نظام ہاضمہ میں ایسے بیکٹیریا موجود ہوتے ہیں۔ جو کہ ہاضمے کے عمل کے لیۓ بہت ضروری ہوتے ہیں۔ خاص طور پر آنتوں میں ان کی موجودگی اس لیۓ بھی ضروری ہوتی ہے۔ کہ یہ آنتوں میں موجود بچے ہوۓ کھانے کو گلنے سڑنے سے روکتے ہیں ۔
ان کھانوں کا گلنا سڑنا درحقیقت آنتوں کے کینسر کا باعث بن سکتا ہے ۔ کھجور کے اندر اس بات کی تاثیر موجود ہوتی ہے کہ یہ آنتوں میں ان فائدہ مند بیکٹیریا کی شرح میں اضافہ کرتے ہیں۔ جس سے جسم میں آنتوں کے کینسر کے خطرے میں کمی واقع ہوتی ہے
توانائي کا بہترین ذریعہ
یہ گلوکوز سے بھر پور ہوتی ہیں ۔ دن بھر روزے کے سبب جسم کے اندر جمع شدہ توانائي میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔ افطار کے وقت پکوڑے سموسے اور دیگر اشیا فوری طور پر توانائی پہنچانے سے قاصر ہوتی ہیں ۔اس وقت میں کھجور جسم کو نہ صرف فوری توانائی فراہم کرتی ہے۔ بلکہ یہ توانائي کی کمی کو بھی پوری کرتی ہے ۔اور جسم کو طاقت فراہم کرتی ہے تاکہ اگلے دن کا بھی روزہ رکھا جا سکے
دماغ کے افعال کو بہتر بناتی ہے
کھجور کے اندر وٹامن بی 6 موجود ہوتا ہے جو کہ دماغ کو چاک و چوبند رکھتا ہے ۔اور اس کے افعال اور یاداشت میں بہتری لاتا ہے ۔ افطار کے وقت تین کھجوریں کھانے سے اور ایک ماہ تک لگاتار کھانے سے دماغ کو ضروری مقدار میں وٹامن بی 6 مل جاتا ہے۔ جس سے اس کے افعال میں بہتری آتی ہے
یہ بہتری صرف ایک ماہ کے لیۓ نہیں ہوتی ہے بلکہ اس کے دورس اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔اس سے نہ صرف یاداشت اور ذہانت میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ دماغی کمزوری بھی دور ہوتی ہے
کن افراد کو کھجور کے استعمال میں احتیاط کرنی چاہیۓ ہے
عام طور پر میٹھی ہونے کے سبب ذیابطیس کے مریضوں کو یہ ہدايت کی جاتی ہے۔ کہ وہ کھجور کھانے سے قبل ذیابطیس کے ماہر ڈاکٹر سے مشورہ کر لیں تاکہ وہ کھجوروں کی رمضان کے میہنے میں تعداد کا تعین کر سکیں
اس کے علاوہ جو افراد موٹاپے کا شکار ہوتے ہیں۔ انہیں بھی کھجور کھانے سے قبل اپنے ماہر غذا سے مشورہ کر لینا چاہۓ ۔کیوں کہ کھجور کا مستقل استعمال وزن بڑھانے کا سبب بن سکتا ہے
گردے کے مریضوں کو کھجور کے استعمال میں خصوصی احتیاط کرنی چاہۓ کیوں کہ کھجور کے اندر فولاد کی بڑی مقدار موجود ہوتی ہے جو گردے کے افعال پر بوجھ ڈالنے کا سبب بن سکتے ہیں ۔ اس صورتحال میں اپنے گردے کے ماہر ڈاکٹر سے مشورے کے بعد ہی کھجور کھانے کا فیصلہ کرنا چاہۓ ہے
ان تمام ماہر ڈاکٹروں سے آن لائن مشورے کے لیۓ مرہم ڈاٹ پی کے کی ایپ ڈاون لوڈ کریں یا پھر 03111222398 پر رابطہ کریں